Sijrah / Silsila

تاریخ ولادت اور نسب مبارک

آپ کی ولادت باسعادت 807 ھ بمطابق 1404 ء بحراوقیانوس اور اطلس پہاڑوں کے درمیان آباد (سوس شہر)کے بربر قبیلہ کے ایک سادات گھرانے میں ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت سیدا امام حسن رضی الله عنہ سے ملتا ہے۔ حضرت امام مہدی الفاسی نے آپ کا شجرہ نسب اس طرح بیان کیا ہے۔

القابات مبارکہ

سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی رضی الله عنہ کو بے شمار القابات مبارکہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ لقب جو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے انہیں عطا فرمایا، اس کے کیا کہنے۔ حضرت شیخ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ
رایت النبی صلی لله علیہ وآلہ وسلم فقال لی انازین المرسلین و انت زین الاولیاء
مجھے رسول الله صلى الله عليه وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں رسولوں کی زینت ہوں اور تم اولیائے کرام کی زینت ہو

حضرت امام محمد مہدی الفاسی رضی الله عنہ نے مطالع المسرات بجلاء دلائل الخیرات میں حضرت سیدی محمد بن سلیمان الجزولی کو ان القابات مبارکہ سے یاد فرمایا ہے۔
الشیخ، الامام، العالم، الولی الکبیر، الکامل، العارف، المحقق، الواصل، قطب زمانہ و فرید دھرہ

شیخ ادریس بن ماحی قیطونی نے آپ کو ان الفاظ مبارکہ سے یاد فرمایا ہے۔
الشیخ، الفقیہ، العلامۃ، العارف، الولی الصالح، شیخ الاسلام، العالم العامل، الشیخ الکامل، العارف بالله الواصل، نخبۃ الدھر، و وحید اعصر

سفر ساحل اور سلسلۂ شاذلیہ میں بیعت

حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی شہر فاس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ساحلی علاقے کی طرف روانہ ہوئے جہاں پر آپ کی ملاقات سادات کی ایک عظیم روحانی شخصیت یکتائے زمانہ، عارف کامل، الشیخ ابو عبدالله محمد بن عبدالله امغار الصغیر رضی الله عنہ سے ہوئی۔ جن کے دست اقدس پر آپ نے سلسلۂ عالیہ شاذلیہ میں بیعت کا شرف حاصل کیا۔ سلسلۂ شاذلیہ کے ا کثر شیوخ کا سلسلہ نسب سادات سے جاملتا ہے جیسے حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی خود بھی حسنی سادات میں سے تھے اور آپ کے مرشد کریم کا بھی سادات سے نسبی تعلق تھا۔ سیدنا ابوالحسن شاذلی رضی الله عنہ خود بھی حسنی سید اور بانی سلسلہ شاذلیہ، ان کے مرشد کریم سیدی عبدالسلام مشیش خود بھی حسنی ادریسی سید اور ان کے مرشد کریم بھی سادات میں سے تھے۔

خصوصیت سلسلہ شاذلیہ

حضرت شیخ علی بن محمد صالح الاندلسی اپنی تالیف میں فرماتے ہیں کہ طریقت کے دو ہی سلسلوں کو انتہائی اہم مقام اور عروج حاصل ہوا۔ ایک سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله عنہ کا سلسلۂ عالیہ قادریہ اور دوسرا سیدنا ابوالحسن الشاذلی رضی الله عنہ کا طریقۂ شاذلیہ۔