تعارف / دلائل الخیرات شریف

دلائل الخیرات شریف کا مکمل نام جس کو مصنف نے خود کتاب کے مقدمے میں تحریر فرمایا ہے، وہ اس طرح ہے۔ دلائل الخیرات و شوارق الانوار فی ذکر الصلوٰۃ والسلام علی نبی المختار اس کی غرض و غایت بھی خود مصنف نے کتاب کے مقدمہ میں بیان کردی ہے کہ فالغرض فی ہذا الکتاب ذکر الصلوٰۃ علی النبی صلى الله عليه وسلم و فضائلہا اس کتاب کو تحریر کرنے کی غرض و غایت حضور نبی اکرمصلى الله عليه وسلم پر درود پاک اور اس کی فضیلت کو بیان کرنا ہے۔

سبب تالیف

٭ حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی رضی الله عنہ نے ایک لڑکی کو فضا میں پرواز کرتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا۔ ہم نلت ہذہ المرتبۃ؟ کہ تونے یہ مقام کس طرح حاصل کیا ہے؟ جس کے جواب میں اس نے کہا کہ بکثرۃ الصلوٰۃ علی النبی صلى الله عليه وسلم کہ نبی اکرمصلى الله عليه وسلم پر کثرت سے درود پاک پڑھنے کی وجہ سے

٭ حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی فاس میں قیام پذیر تھے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ وضو فرمانے کے لئے کنویں پر تشریف لے گئے، لیکن اس وقت کوئی ایسی چیز میسر نہ تھی جس کے ستھ آپ کنویں سے پانی نکالتے۔ آپ اس حالت میں تھے کہ اب کیا کریں کہ اچانک ایک لڑکی جو ایک اونچی جگہ سے یہ منظر دیکھ رہی تھی، اس بنے آپ کا نام پوچھا، جواب سن کر اس لڑکی نے کہا انت الرجل الذی یثنی علیک بالخیر وتتحیر فیما تخرج بہ الماء من البئر کہ آپ وہی شخصیت ہیں جن کا ہر جگہ چرچا اور تعریف ہورہی ہے، اور صرف اس بات سے پریشان ہیں کہ کنویں سے پانی کس طرح نکالا جائے؟ وبصقت فی البئر فضاض ما، ھا حتی ساح وجہ الارض تو اس لڑکی نے کنویں میں جیسے ہی اپنا لعاب ڈالا تو پانی کنیں سے ابل کر باہر زمین پر آگیا۔ حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی جب وضو سے فارغ ہوئے تو اس لڑکی سے کہا کہ میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ مجھے بتا کہ تجھے یہ مقام کیسے حاصل ہوا؟ جس کے جواب میں اس لڑکی نے کہا۔ بکثرۃ الصلوٰۃ علی من کان اذا مشی فی البر الاقفر تعلقت الوحوش باذیالہ صلى الله عليه وسلم کہ یہ مقام مجھے اس شخصیت کبریٰ پر کثرت کے ساتھ درود پڑھنے کی وجہ سے حاصل ہوا ہے کہ جب آپ جنگل میں سے گزرتے تو وحشی جانور آپ صلى الله عليه وسلم کے دامن خیر و برکت سے لپٹ جاتے۔ فحلف یمینا ان یؤلف کتابا فی الصلوٰۃ علی النبیصلى الله عليه وسلم تو آپ نے حلف اور قسم اٹھائی کہ وہ اب درود پاک پر ایک کتاب تحریر کریں گے۔ پھر آپ نے اس لڑکی سے وہ صیغہ درود بھی حاصل کیا جس کا وہ ورد کیا کرتی تھی۔

شہر و مقام تحریر

حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی نے کتاب دلائل الخیرات شریف بلادِ مغرب کے ایک شہر فاس جسے اولیائوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، اس میں تحریر فرمائی۔(وانہ جمع کتابہ دلائل الخیرات من کتب خزانۃ جامع القروبین بفاس) آپ نے کتاب مذکورہ کو تحریر کرتے وقت جامع قرویبین کی لائبریری میں مووجد کتب سے بھی استفادہ کیا۔
دلائل الخیرات شریف کی ساتویں حزب میں وہ درود پاک بھی موجود ہے جس کو آپ نے اس لڑکی سے حاصل کیا تھا۔ اسے صلاۃ البئر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ شہر فاس کے مدرسہ الصارفین میں آج بھی آپ کا رہائشی حجرہ معروف و مشہور ہی۔ جس کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نے اسی حجرہ مبارکہ میں دلائل الخیرات شریف تحریر فرمائی۔ بروز جمعرات 15 نومبر 2007 ء اس حجرہ مبارکہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور تصاویر بھی بنائیں جو کتاب میں موجود ہیں۔

صلاۃ البئر

اللہم صلی علی سیدنا ومولانا محمد وعلیآل سیدنا ومولانا محمد صلاۃ دائمۃ مقبولۃ تودی بہا عنا حقہ، العظیم

دلائل الخیرات کی شرحیں

مطالع المسرات بجلاء، دلائل الخیرات علامہ محمد مہدی الفاسی نے دلائل الخیرات کی تین شرحیں کیں۔ پھر ایک جلد میں ان کا اختصار کیا۔ اس شرح کا اردو ترجمہ علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری رحمتہ الله علیہ نے کیا ہے جو شائع ہوچکا ہے۔

شرح شیخ زروق مغربی رضی لله عنہ

بلوغ المسرات علی دلائل الخیرات حضرت علامہ شیخ حسن العدوی کا حاشیہ

الدلالات الواضحات علی دلائل الخیرات حضرت علامہ یوسف اسماعیل النبھانی رضی الله عنہ نے دلائل الخیرات شریف کا مختصر حاشیہ تحریر فرمایا۔

دلائل الخیرات شریف کی ترتیب

٭ مقدمہ از مصنف حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی رضی الله عنہ
٭ ایک فصل میں حضور پاک صلى الله عليه وسلم کے درود پاک کے فضائل کا بیان
٭ حضور پاک صلى الله عليه وسلم کے 201 اسمائے مبارکہ
٭ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی تصاویر
٭ حضور پاک صلى الله عليه وسلم کے روضہ مبارک اور اس کے وصف کا بیان
٭ کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل ہے۔ ہر حصہ کو حزب کا نام دیا گیاہے۔

دلائل الخیرات شریف کی مقبولیت

٭ دلائل الخیرات شریف وہ عظیم کتاب ہے جو دنیا کے کونے کونے میں پڑھی جاتی ہی۔ تمام معروف سلاسل طریقت کے شیوخ خود بھی اس کا ورد کرتے ہیں اور اپنے مریدین کو بھی پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں۔

بارگاہِ نبوی صلى الله عليه وسلم میں اس وظیفۂ درود و سلام کی قبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرکار مدینہ صلى الله عليه وسلم نے بعض خوش بختوں کو اس کتاب کی خود اجازت فرمائی۔

حضرت سیدی الصدیق الفلالی، امی ولی الله ہو گزرے ہیں، آپ کو مکمل دلائل الخیرات حفظ تھی اور فرمایا کرتے تھے کہ ان النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم علمہ ایاہ مناما رسول الله صلى الله عليه وسلم نے انہیں خواب میں دلائل الخیرات شریف پڑھائی تھی۔

’’کشف الظنون‘‘ میں دلائل الخیرات کے بارے میں یہ تحریر ہے کہ وہذا الکتاب آیۃ من آیات الله فی الصلاۃ علی النبی علیہ الصلاۃ والسلام۔ یہ کتاب حضور نبی ا کرمصلى الله عليه وسلم پر درود پاک کے معتلق ایسی کتاب ہے جو الله تبارک و تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

یہ وہ عظیم کتاب ہے جس کے ذریعے لوگوں کو برکت اور نور نصیب ہوتا ہے۔ ویجدون لہ برکۃ و نورا

دلائل الخیرات شریف کے فیوضات

دلائل الخیرات شریف کے بے شمار فیوضات و برکات ہیں۔ بعض بزرگ اسے حل مشکلات کے لئے بھی مجرب قرار دیتے ہیں۔ حضرت شیخ ابی عبدالله العربی کے ذاتی نسخہ دلائل الخیرات کے آخر میں یہ عبارت تحریر تھی۔

مما جرب لقضاء الحوائح و تفریح الکرب قراۃ دلائل الخیرات اربعین مرۃ و یجتہد القاری ان یکمل ہذا العدد قبل تمام اربعین یوما، فان الحاجۃ تقضی کائنۃ ماکانت ببرکۃ الصلاۃ علی النبی صلی لله علیہ وسلم

دلائل الخیرات شریف کا 40 مرتبہ پڑھنا، قضائے حاجات، حل مشکلات اور دفع غم کے لئے مجرب ہے۔ قاری کو چاہئے کہ وہ اس وظیفہ کو چالیس دن کے اندر اندر مکمل کرلے تو ان شاء الله درود پاک کی برکت سے اس کی حاجت خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، پوری ہوجائے گی

ملفوظات مبارکہ

٭علیکم بذکر الله العظیم، والصلاۃ علی رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم و زیارۃ اولیاء الله الله تبارک و تعالیٰ کے ذکر عظیم، رسول الله صلى الله عليه وسلم پر درود شریف اور اولیائے کرام کی زیارت کو اختیار کرو۔
٭ الشیخ الواصل حبل الله فی ارضہ فمن تعلق بہ وصل، واما غیر الواصلین فمن عتلق بہ انقطع کامل شیخ زمین پر الله تعالیٰ کی رسی کی مانند ہے جس نے اس کے ستھ تعلق جوڑا، وہ بھی کال ہوا اور جو غیر کاملین کے ساتھ تعلق جوڑتا ہے، وہ ناکام ہوتا ہے۔
٭ لیس کل داع و جب اتباعہ ہر دعویٰ کرنے والے کی اطاعت ضروری نہیں
٭ قل للعلماء طوبی لکم ان کنتم مخلصین لاینفع عمل بلا اخلاص فرمایا کہ علماء کو بشارت دے دو اگر وہ مخلص ہیں کیونکہ عل بغیر خلوص فائدہ نہیں پہنچاتا۔
٭ من تادب مع شیخہ تادب مع ربہ جس نے اپنے شیخ کے ساتھ ادب اختیار کیا، اس نے اپنے رب کے ساتھ ادب اختیار کیا۔
٭ مخالطۃ العموم تذہب بنور القلوب و ہیبۃ الوجہ عام لوگوں سے ملنے کی وجہ سے دلوں کا نور اور چہرے کی ہیبت جاتی رہتی ہے-
٭ اہربوا من مجالس الفجار، من جلس مع الفجار قساقلبہ، ومن جالس الابرار استنار قلبہ، ومن استنار قلبہ جال روحہ برے لوگوں کی مجلس سے دور رہو، جو برے لوگوں کی مجلس میں بیٹھتا ہے، اس کا دل سخت ہوجاتا ہے، جو نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے، اس کا دل منور ہوجاتا ہے اور جس کا دل منور ہوجاتا ہے، اس کی روح کو جلا مل جاتی ہے۔
٭ العلم دوا، والجہل داء علم دوا ہے اور جہالت بیماری ہے۔
٭ الوسواس یأتیک من مجالسۃ اہل السوء برے لوگوں کی مجلس میں بیٹھنے سے وسواس آتے ہیں۔

اس بابرکت تذکرے کا اختتام بھی حضرت امام جزولی کی دعا سے کرتے ہیں۔ اللہم امنن علینا بصفا، المعرفۃ، ووہب لنا صحیح المعاملۃ بیننا و بینک علی السنۃ والجماعۃ و صدق التوکل علیک و حسن الظن بک، وامنن علینا بکل ما یقربنا الیک مقرونا بالعفو فی الدارین یارب العالمین الله تبارک و تعالیٰ ہم سب کو سیدی محمد بن سلیمان الجزولی الشاذلی رضی الله عنہ کے فیوصات و برکات سے مستفیض فرمائے۔