مزار پرانوار

شہر مرا کش کے قدیم حصے میں آپ کا مزار مبارک مشہور و معروف اور لوگ دور دور سے آپ کے مزار مبارک کی زیارت کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔ مرا کش کے سات مشہور و اہم اولیائے کرام میں آپ کا بھی شمار ہوتا ہے۔

بحمدلله! اس مقام مقدس پر ہمیں بھی حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ مرکزی دروازہ سے داخل ہوں تو دائیں جانب ایک وسیع و عریض خوبصورت ہال ہے جو مرا کشی فن تعمیر کا عظیم شاہکار نظر آتا ہے۔ اس ہال میں داخل ہوں تو بائیں جانب ایک کنارے پر صاحب دلائل الخیرات شریف حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کا پرکیف و پرانوار مزار مبارک موجود ہے جس کی نورانی و روحانی کرنیں دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل رہی ہیں۔

آپ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہونے پر الله تبارک و تعال ی کا شکر ادا کیا۔ اپنا، اپنے اہل خانہ اور جملہ دوست و احباب کا ہدیۂ سلام بھی پیش کیا۔ اس کے بعد ایک مختصر سی محفل منعقد کی۔ دلائل الخیرات شریف کا ورد کیا، ختم شریف پڑھا اور پھر سب کے لئے دعائے خیر وبرکت اور اس مقام مقدس و معطر پر حاضری کی درخواست کی۔ مجلس دلائل الخیرات شریف ’’کراچی‘‘ کی طرف سے ایک خوبصورت و منقش چادر مزار مبارک پر پیش کی۔ اس کے بعد مجلس اور ادارہ معارف نعمانیہ (لاہور)کے شائع کردہ دلائل الخیرات شیف کے نسخے تقسیم کئے۔ مزار مبارک پر حاضری دینے والوں میں مردوں کے علاوہ خواتین بھی کثرت سے حاضری دیتی ہیں، نماز عصر کے بعد کافی تعداد میں لوگ حاضری کے لئے آتے ہیں۔ منتظمین دربار نے ہمیں بتایا کہ اس مقام مقدس پر شام کے وقت دلائل الخیرات شریف پڑھی جاتی ہے۔ ان منتظمین کو چند یادگاری علمی تحائف پیش کئے، جس کے جواب میں انہوں نے بھی دلائل الخیرات شریف کے دو نسخے اس بندۂ ناچیز کو اور ایک عدد نسخہ مجلس دلائل الخیرات شریف کیلئے بھی عطا فرمایا۔ بحمدلله! اب اس نسخے کو مجلس دلائل الخیرات شریف ’’جامع مسجد آرام باغ کراچی‘‘ بلا ہدیہ تقسیم اور افادۂ عام کے لئے دوبارہ شائع کررہی ہے۔ الله تبارک و تعال ی مجلس سے متعلق تمام احباب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

حضرت محمد بن سلیمان الجزولی الشاذلی کا مزار مبارک انتہائی پرکیف، معطر اور انوار و برکات کا مظہر ہے۔ آپ کی قبر مبارک چاروں اطرف مکمل طور پر بند ہے۔ اوپر ایک صندوق رکھا ہوا ہے جس پر انتہائی خوبصورت کڑھائی والا غلاف چڑھا ہوا ہے۔ شب جمعہ اس مقام پر اجتماعی طور پر دلائل الخیرات شریف کا بھی ورد ہوتا ہے۔
مختلف کتب میں مذکور ہے کہ آپ کے مزار مبارک پر گنبد بنا ہوا ہے، لیکن یہ درست نہیں ہے، سب سے پہلے آپ کے روضہ مبارک کی عمارت مرا کش کے سلطان الاعرج نے تعمیر کروائی۔ س عمارت کے متعلق حضرت علامہ محمد مہدی الفاسی نے عربی میں جو الفاظ تحریر کئے ہیں، وہ اس طرح سے ہیں۔
وبنی علیہ بیت کہ اس پر ایک عمارت تعمیر کی گئی (نہ کہ گنبد) ان ممالک میں شروع سے ہی بالعموم مزارات پر گنبد کا رواج نہیں بلکہ مزارات کی عمارات کی چھتیں تکون نما ہوتی ہیں جیسے ہمارے ملک میں مری اور دیگر پہاڑی مقامات پر چھتیں ہوتی ہیں۔ حضہ تصاویر دیکھنے کے بعد آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ کسی بھی مزار پر گنبد نہیں ہے، سب پر تکون نما چھتیں ہیں۔
حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی الشاذلی کے روضہ مبارک سے باہر نکلیں تو سامنے ایک صحن آتا ہے جس میں ایک خوبصورت فوارہ لگا ہوا ہے۔ حاضرین تبرکاً اس کا پانی پیتے ہیں اور بعض اس پانی کو اپنے ساتھ بھی لے جاتے ہیں۔

(حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کے مزار مبارک کے سامنے واقع خوبصورت فوارہ)
مذکورہ صحن سے آگے کی طرف جائیں تو سامنے سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کی مسجد کا مرکزی دروازہ آتا ہے۔ یہ مسجد وسیع رقبہ پر قائم ہے۔

(حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کے مزار مبارک کے سامنے واقع خوبصورت فوارہ)
مذکورہ صحن سے آگے کی طرف جائیں تو سامنے سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کی مسجد کا مرکزی دروازہ آتا ہے۔ یہ مسجد وسیع رقبہ پر قائم ہے۔