خصوصی تذکرہ

عارف بالله سبحانہ و تعالی

سیدی محمد بن سلیمان الجزولی الشاذلی رضی الله عنہ

سیدنا ابو عبدلله محمد بن سلیمان الجزولی رضی لله عنہ

آپ کا اسم مبارک ’’محمد‘‘ والد کا نام ’’عبدالرحمن‘‘ دادا کا نام ’’ابی بکر‘‘ اور پردادا کا اسم مبارک ’’سلیمان‘‘ ہے۔ آپ اسی نام سلیمان سے مشہور ہوئے۔ آپ کو اپنے پردادا کی طرف مسنوب کرکے محمد بن سلیمان بھی کہا جاتا ہے۔ بلادِ عربیہ میں آپ ’’سیدی بن سلیمان‘‘ کے نام سے معروف ہیں۔ شہر مرا کش میں آپ کے مزار مبارک کے باہر صد دروازے کے دائیں طرف دیوار پر جو تختی نصب ہے ، اس پر بھی یہی نام ’’ضریح سیدی بن سلیمان‘‘ تحریر ہے۔

نسبت

مشرقی مرا کش کے ایک قدیم ’’بربر‘‘ قبیلے کا نام جزولہ، جو شہر ’’سوس‘‘ میں آباد تھا۔ اس قبیلہ کی ایک شاخ ’’سملالہ‘‘ بھی تھی۔ جزولہ اور سملالہ میں کئی نامور شخصیات نے جنم لیا۔ جن میں سیدی محمد بن سلیمان الجزولی السملالی نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔ آپ جزولہ کی نسبت سے جزولی اور سملالہ کی نسبت سے سملالی کہلاتے ہیں۔

تاریخ ولادت اور نسب مبارک

آپ کی ولادت باسعادت 807 ھ بمطابق 1404 ء بحراوقیانوس اور اطلس پہاڑوں کے درمیان آباد سوس شہر کے بربر قبیلہ کے ایک سادات گھرانے میں ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت سیدا امام حسن رضی الله عنہ سے ملتا ہے۔ حضرت امام مہدی الفاسی نے آپ کا شجرہ نسب اس طرح بیان کیا ہے۔

القابات مبارکہ

سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی رضی الله عنہ کو بے شمار القابات مبارکہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ لقب جو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے انہیں عطا فرمایا، اس کے کیا کہنے۔ حضرت شیخ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ :
رایت النبی صلی لله علیہ وآلہ وسلم فقال لی انازین المرسلین و انت زین الاولیاء

مجھے رسول الله صلى الله عليه وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں رسولوں کی زینت ہوں اور تم اولیائے کرام کی زینت ہو

حضرت امام محمد مہدی الفاسی رضی الله عنہ نے مطالع المسرات بجلاء دلائل الخیرات میں حضرت سیدی محمد بن سلیمان الجزولی کو ان القابات مبارکہ سے یاد فرمایا ہے۔
الشیخ، الامام، العالم، الولی الکبیر، الکامل، العارف، المحقق، الواصل، قطب زمانہ و فرید دھرہ

شیخ ادریس بن ماحی قیطونی نے آپ کو ان الفاظ مبارکہ سے یاد فرمایا ہے۔
الشیخ، الفقیہ، العلامۃ، العارف، الولی الصالح، شیخ الاسلام، العالم العامل، الشیخ الکامل، العارف بالله الواصل، نخبۃ الدھر، و وحید اعصر

تعلیم

حضرت امام جزولی نے ابتدائی تعلیم مقامی طور پر حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے آبائی وطن سے اعلی تعلیم کی خاطر فاس تشریف لے گئے اور اس وقت کے مشہور زمانہ مدرسہ ’’مدرسۃ الصفارین‘‘ میں داخل ہوگئے۔ یہاں پر آپ نے دوسری کتب کے علاوہ تصانیف ابن حاجب اور مدونہ کبر ی جیسی عظیم کتب کو زبانی یاد کیا۔ اسی دوران آپ کی ملاقات مشہور فقیہ شیخ احمد زروق سے ہوئی اور ان سے بھی استفادہ کیا۔ شیخ احمد بابا السودانی کے مطابق آپ نے علم و ادب میں اعلی مقام حاص لکرنے کے ساتھ ساتھ درجۂ ولایت میں بھی کمال حاصل کیا۔ مدرسۃ الصفارین میں قیام کے دوران آپ کسی کو اپنی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیتے۔ کچھ لوگ اس بات پر معترض ہوئے اور انہوں نے آپ کے والد سے اس بات کی شکایت کی کہ آپ کے صاحبزادے نے اپنی رہائش گاہ میں دنیاوی مال و دولت ا کھٹا کررکھا ہے جس کی وجہ سے وہ کسی کو اپنی رہائش گاہ میں داخل نہیں ہونے دیتے۔
فقدم علیہ ثم طلب منہ ان یدخل ذلک البیت فاجابہ الی ذلک وادخلہ ایاہ

جس پر آپ کے والد گرامی تشریف لائے اور اس رہائش گاہ میں جانے کے لئے کہا جس پر آپ نے رہائش کھولی اور خود بھی ان کے ہمراہ داخل ہوگئے۔ سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کے والد محترم یہ منظر دیکھ کر حیران ہوگئے کہ کمرے کی دیواروں پر تحریر تھا الموت، الموت، الموت… آپ کے والد گرامی نے جب اپنے صاحبزادے کا یہ حال اور مقام دیکھا تو فوراً پکار اٹھے(انظر این ہذا واین نحن )کہ دیکھو یہ کس مقام پر ہے اور ہم کہاں پر ہیں شہر فاس کے مدرسۃ الصفارین میں آپ کا یہ حجرہ مبارکہ اب بھی موجود ہے اور اس کی زیارت کی جاسکتی ہے۔ الحمدلله بروز جمعرات 15 نومبر 2007 ء ہمیں بھی اس حجرہ مقدس کی زیارت کا شرف حاصل ہواٖ۔ یہ وہی حجرہ مبارکہ ہے جس میں حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی نے دلائل الخیرات تحریر فرمائی تھی۔

سفر ساحل اور سلسلۂ شاذلیہ میں بیعت

حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی شہر فاس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ساحلی علاقے کی طرف روانہ ہوئے جہاں پر آپ کی ملاقات سادات کی ایک عظیم روحانی شخصیت یکتائے زمانہ، عارف کامل، الشیخ ابو عبدالله محمد بن عبدالله امغار الصغیر رضی الله عنہ سے ہوئی۔ جن کے دست اقدس پر آپ نے سلسلۂ عالیہ شاذلیہ میں بیعت کا شرف حاصل کیا۔ سلسلۂ شاذلیہ کے ا کثر شیوخ کا سلسلہ نسب سادات سے جاملتا ہے جیسے حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی خود بھی حسنی سادات میں سے تھے اور آپ کے مرشد کریم کا بھی سادات سے نسبی تعلق تھا۔ سیدنا ابوالحسن شاذلی رضی الله عنہ خود بھی حسنی سید اور بانی سلسلہ شاذلیہ، ان کے مرشد کریم سیدی عبدالسلام مشیش خود بھی حسنی ادریسی سید اور ان کے مرشد کریم بھی سادات میں سے تھے۔

خصوصیت سلسلہ شاذلیہ

حضرت شیخ علی بن محمد صالح الاندلسی اپنی تالیف میں فرماتے ہیں کہ طریقت کے دو ہی سلسلوں کو انتہائی اہم مقام اور عروج حاصل ہوا۔ ایک سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی الله عنہ کا سلسلۂ عالیہ قادریہ اور دوسرا سیدنا ابوالحسن الشاذلی رضی الله عنہ کا طریقۂ شاذلیہ۔

خلوت نشینی

حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی الشاذلی رضی الله عنہ نے سلسلہ شاذلیہ میں شرف بیعت حاصل کرنے کے بعد سلوک کی مزید منازل طے کرنے اور عبادت و ریاضت میں مصروف رہنے کے لئے خلوت اختیار فرمائی جو چودہ سال کی طویل مدت پر محیط ہے۔ اس دوران کے آپ کے کچھ وظائف جو کتب سے معلوم ہوئے ہیں، وہ اس طرح سے ہیں۔
ووردہ فیھا سلکتان فی دلائل الخیرات و منۃ الف بسم الله الرحمن الرحیم و سلکۃ یختمہا کل لیلۃ و ربع القرآن دو بار مکمل دلائل الخیرات کا ورد، ایک لاکھ مرتبہ بسم الله الرحمن الرحیم، رات کو ایک بار دلائل الخیرات اور ایک چوتھائی قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔

خلق خدا کی طرف ظاہر ہونے کا حکم

چودہ سالہ طویل خلوت نشینی کے بعد حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کو خلق خدا کی طرف ظاہر ہونے کا حکم ملتا ہے۔ الی ان اذن لہ فی الخروج۔ آپ ساحل کے خلوت خانہ سے باہر تشریف لاتے ہیں اور شہر آسفی کو دین کی نشر و اشاعت اور خلق خدا کی ہدایت کا مرکز بناتے ہیں۔ لوگ آپ کی طرف متوجہ ہونا شروع ہوگئے۔
وتاب علی یدہ ہناک خلق کثیر و انتشر ذکرہ فی الآفاق بے شمار مخلوق خدا آپ کے دست اقدس پر تائب ہوکر آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئی اور آپ کا ذکر دوسرے شہروں اور علاقوں تک جا پہنچا۔ و ظھرت علی یدہ الخوارق العظیمہ والکرامات الجسیمہ اور آپ سے حیرت انگیز خوارق اور بے شمار عظیم کرامات کا ظہور ہوا۔
٭ ختمۃ من القرآن و نصف بین اللیل والنہار دن رات میں ڈیڑھ قرآن پاک کی تلاوت ٭ دلائل الخیرات مرتین بین اللیل و النہار دن رات میں دو مرتبہ دلائل الخیرات کا ورد ٭ فدیۃ من بسم الله الرحمن الرحیم اور بسم الله الرحمن الرحیم کا وظیفہ

بارگاہ ا لہی میں حضرت امام جزولی رضی الله عنہ کی مقبولیت

حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی رضی الله عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایک مرتبہ کہا گیا
یاعبدیً فضلتک علی جمیع خلقی بکثرۃ صلاتک علی نبی عنی الذین فی عمرہ
کہ اے میرے بندے! میں نے تجھے تمام مخلوق اس وقت میں پر فضیلت عطا کردی ہے کیونکہ تو کثرت سے میرے نبی پر درود پڑھتا ہے۔
حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی نے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا کہ مجھ سے کہا گیا کہ
من اراد ان ینظر فی وجہ ابی بکر الصدیق رضی لله عنہ فالینظر فی وجہک
جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے چہرۂ انور کی زیارت کرنا چاہتا ہے پس وہ تمہارے چہرے کو دیکھ لے۔

شہر آسفی سے ہجرت

حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کی بارگاہ اقدس میں عوام اور خواص کے بے پناہ ہجوم کو دیکھتے ہوئے حاکم آسفی کو اپنا خطرہ لاحق ہوگیا۔ اس نے آپ کو شہر چھوڑنے کا پیغام بھجوادیا۔ آپ آسفی شہر کو خیرآباد کہنے کے بعد بلاد مطرازہ کی قریب (بافغال باف غال یا بافوغال) کے مقام پر تشریف لے آئی

کوشش کرنی چاہئے کہ الله تبارک و تعال ی کے کسی مقبول بندے کے دل پر آپ کی طرف سے کسی قسم کا کوئی بوجھ نہ آنے پائے کیونکہ الله تعال ی اپنے مقبول بندے کے دل پر بوجھ کو پسند نہیں فرماتے اور اس کے نتیجے میں پورے ماحول کو پریشانیوں میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ حاکم آسفی کی یہ بات الله تبارک و تعالی کو ناپسند آئی اور حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کے نکلنے کے بعد یہ شہر اور عوام 40 سال تک عیسائیوں کے قبضے میں رہے اور حاکم وقت کو بھی اس کے ایک عزیز نے حکومت سے الگ کردیا۔
حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کی آمد کے بعد افغال علم و عرفان کا عظیم مرکز بن گیا اور خلق خدا اس مرکز سے روحانی فیض حاصل کرنے لگی۔ حضرت علامہ محمد مہدی الفاسی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کی برکت سے انور جگمگا اٹھے، اسرار آشکار ہونے لگے، بلاد مغرب میں الله تبارک و تعال ی کا ذکر اور حضور نبی ا کرم صلى الله عليه وسلم کی بارگاہ میں صلوۃ و سلام کے نغمے گونجنے لگے۔

و ساز ذکرہ فی جمیع الآفاق و سارا تباعہ فی کل ناحیہ

تمام بلاد میں آپ کا چرچا ہونے لگا اور آپ کے مریدین ہر مقام پر پھیلنے لگے۔ بندگان خدا کو آپ کی ذات مبارکہ سے فیض پہنچنا شروع ہوا۔ بے شمار مشہور مشائخ نے آپ کے دست مبارک پر بیعت فرمائی جنہیں آپ نے شرف خلافت سے بھی نوازا۔ بلاد مغرب میں تصوف اور طریقت کے آثار آخری دموں پر تھے جن کی روشنی بھی ماند پڑ چکی تھی۔آپ نے ازسرنو ان میں روحانیت کے حسین رنگ بھرے۔ آپ اپنے خلفاء کو مختلف اطراف میں دعوت دینے کے لئے بھیجتیْ ان میں دو نام خصوصیت کے ساتھ کتب میں ملتے ہیں۔

الشیخ ابو عبدلله محمد الصغیر السہلی رضی لله عنہ
الشیخ ابو محمد عبدلله المنذاری رضی لله عنہ
یہ احباب لوگوں کو رشد و ہدایت کی تلقین کرتے اور ان کی کوششوں سے اس سلسلہ کو اتنی زیادہ وسعت ملی کہ عام مریدین اور معتقدین کے علاوہ خواص کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی۔
وقد ذکر بعد ہم انہ اجتمع من المریدین بین یدیہ اثناء عشر الفاء و ستمایۃ و خمسۃ و ستون، کلہم ممن نال منہ خیراً جزیلاً علی قدر مراتبہم و قربہم منہ
اور بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کے دست اقدس پر شرف بیعت حاصل کرنے والوں میں 12665 مریدین ولایت کے اعلی مقام پر فائز ہوئے اور اپنی استعداد اور حضرت شیخ سے قربت کے مطابق مراتب حاصل کئے۔

رسول الله صلى الله عليه وسلم سے محبت و عقیدت

حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کی رسول الله صلى الله عليه وسلم سے عقیدت و محبت کا بخوبی ادنازہ دلائل الخیرات شریف پڑھنے سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔ حضرت شیخ امام محمد القصار فرماتے ہیں کہ
کان محمد بن سلیمان الجزولی الشاذلی علی محبۃ عظیمۃ لہ صلی لله علیہ وآلہ وسلم فقد قیل لہ فضلتک علی عصرک بکثرۃ صلاتک علی حبیبی محمد

حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی الشاذلی کو رسول الله صلى الله عليه وسلم سے انتہا درجہ محبت و عقیدت تھی۔ اسی لئے آپ سے کہا گیا کہ ’’میرے حبیب پر کثرت درود کی وجہ سے تمہیں اپنے معاصین پر فضیلت اور برتری دی گئی ہے ‘‘ شاذلی حضرات کی خصوصیت ہی رسول الله صلى الله عليه وسلم سے کثرت محبت ہے۔ اس سلسلہ کی بنیاد حضور نبی اکرم صلى الله عليه وسلم پر درود و سلام پیش کرنا ہے۔ عظیم شاذلی بزرگ حضرت ابو العباس مرسی نے فرمایا تاھ کہ اگر لمحہ بھر کے لئے بھی رسول الله صلى الله عليه وسلم کی زیارت سے محروم ہوجائوں تو اپنے آپ کو مسلمان ہی نہ سمجھوں۔

شعری ذوق

حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی شعری ذوق بھی رکھتے تھے۔ آپ کے اشعار مبارکہ میں خوف خدا اور حب سول صلى الله عليه وسلم جیسے اہم مضامین کی جھلک نظر آتی ہے۔ بارگاہ نبوی صلى الله عليه وسلم میں استغاثہ کے چند اشعار درج ذیل ہیں۔

آپ سے منسوب چند دیگر اشعار جو الاعلام کی جلد پنجم صفحہ نمبر ۸۳ پر موجود ہیں۔ ان میں سے چند اشعار درج ذیل ہیں۔

یا نعمۃ لله انی مفلس عانیا رحمۃ لله انی خائف و جل
سوی محبتک العظمی وایمانیولیس لی عمل القی العلیم بہ
ومن شر المماۃ ومن احراق جثمانیفکن امانی من شر الحیوۃ
وکن فکاکی من اغلال عصیانیوکن غنای الذی مابعدہ فلس
ماغنت الورق فی الوراق اغصانتحیۃالصمد المولی و رحمتہ
الاوفی ومن مدحہ روحی و ریحانیعلیک یا عروتی الوثقی ویاسندی

وصال مبارک

حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کی شہرت، عزت، عظمت، مقبولیت اور تصوف میں اعل ی مرتبے پر فائز ہونے کی وجہ سے مخالفین اور حاسدین کا بھی ایک گروہ پیدا ہوگیا تھا۔ جنہوں نے آپ کو زہر دے دیا اور آپ کا وصال اسی زہر کی وجہ سے صبح کی نماز میں دوران سجدہ تقریبا 63 سال کی مبارک عمر میں ہوا۔ اسی روز بعد نماز ظہر آپ کو اپنی تعمیر کردہ مسجد کے وسط میں سپرد خاک کردیاگیا۔ حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی کی تاریخ وصال کے بارے میں مختلف کتابوں میں متعدد روایات موجود ہیں۔ چند ایک کا ذکر درج ذیل ہے۔

روایت حالت وصال سال وصال تاریخ وصال
بعض معتقدین کے مطابق رکعت دوسری / سجدہ پہلا 869 ھ ذی القعدہ
محمد بن یعقوب الادیب رکعت پہلی 870 ھ 16 ربیع الاول
الشیخ زروق رکعت پہلی / سجدہ دوسرا
یا
رکعت دوسری / سجدہ پہلا
870 ھ
الشیخ احمد الفاسی 870 ھ
احمد السوسی البو سعیدی 870 ھ

قطعہ تاریخ
حضرت محمد بن سلیمان الجزولی الشاذلی رضی لله عنہ
(صاحبِ دلائل الخیرات شریف)
مزار شریف ، شہر مرا کش ( بلادِ مغرب)
(سال وصال ۸۷۰ ھ)

روح پرور اس کا ذکر ہر دور میں
زیب و زین داستان خیر ہے
اس جلیل القدر کا سال وصال
نہج اخیار‘‘ و ’’زبانِ خیر‘‘ ہے’’
غبار راہِ بطحا‘‘ (۱۴۲۹ ھ)’’

وہ امیر کاروان خیر ہے مصلح و مفلح، نبیل و نابغہ
اس کا روضہ آستان خیر ہے اس کا در ہے، مرکز فوز و فلاح
اس کا ہر جملہ جہان خیر ہے جو درود اس نے، سلام اس نے لکھا
باغ خوبی، گلستان خیرہے اس کی خوشبو دلنواز و جاں فزا
بیش قیمت ارمغان خیر ہے اس میں ہے عشق نبیصلى الله عليه وسلم کی چاشنی
وہ عزیز عاشقان خیر ہے وہ ہے مقبول محبان حضور

منتقلی مزار اور حالت جسد اقدس

حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی رضی الله عنہ کے وصال کے 77 سال بعد سعدین سلطان مرا کش ابو العباس سلطان احمد المعروف بہ الاعرج کے حکم سے جب آپ کے جسد اطہر کو قبر مبارکہ سے نکالا گیا تو اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود درود وسلام کی برکت کی وجہ سے اسی حالت میں تھا، جیسا وقت وصال اور مرودِ زمانہ کے قطعاً کوئی آثار نمایاں نہ تھے۔
واثر الحلق من شعر لحیتہ ورأسہ ظاہر حتی کہ آپ کے سر اور داڑھی مبارک کے خط بھی بالکل تر وتازہ نظر آرہے تھے۔ حاکم وقت یا اس کے کہنے پر کسی شخص نے جب آپ کے چہرۂ انور کو دبایا تو فوراً اس مقام سے خون ہٹ گیا۔ فلما رفع اصبعہ رجع الدم کما یقع ذلک من الحی اور جب اس نے انگلی اٹھائی تو خون پھر اپنی جگہ واپس لوٹ آیا جیسا کہ زندہ آدمی کے ساتھ ہوتا ہے۔ آپ کے جسد مبارکہ کو مرا کش کے قدیم حصہ میں دفن کیا گیا اور اس پر ایک عمارت )روضہ( بھی تعمیر کی گئی۔ علامہ یفرنی فرماتے ہیں کہ سال 1133 ھ میں خلیفۂ مرا کش نے آپ کے روضہ مبارک کو دوبارہ تعمیر کروایا اور سنگ بنیاد کے موقع پر ایک محفل کا انعقاد بھی ہوا۔ اسی طرح سلاطین مولای اسماعیل اور محمد بن عبدالله کے دور حکومت مزار مبارک کی توسیع کے علاوہ بعض حصوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔
قبر مبارک سے کستوری کی خوشبو
حضرت علامہ مہدی الفاسی فرماتے ہیں کہ
وثبت ان رائحۃ المسک توجد من قبر الشیخ رضی لله عنہ من کثرۃ صلاۃ علی النبیصلى الله عليه وسلم
یہ بات ثابت ہے کہ آپ کی قبر مبارک سے کستوری کی خوشبو آتیہ ے اور اس کی وجہ نبی ا کرمصلى الله عليه وسلم کی ذات گرامی پر کثرت سے درود پاک پیش کرنا ہے۔